Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20نومبر2006
تبلیغی جماعت کے دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ دونوں ڈاکٹر تھے ۔ ان میں سے ایک کا نام ڈاکٹر تنویر تھا ۔ میں کوئی بات کہہ رہا تھا کہ ایک ڈاکٹر صاحب میرے جملے کے مکمل ہونے سے پہلے ۔ بیچ میں بول پڑے ۔ میںنے ان سے پوچھا کہ آپ کے حضرت جی ، جب بولتے ہیں تو کیا آپ وہاں بھی ایسا ہی کرتے ہیں کہ ان کی بات کے درمیان یہی بولنے لگے ۔ میں نے کہا اس کا مطلب ہے آپ اپنے حضرت جی اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کر رہے ہیں ۔ آپ انے حضرت جی کو تو خوب اکرم کر تے ہیں لیکن آپ کے دل میں دوسرے انسان کا حقیقی معنوں میں اکرام نہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ کے چھ نمبر میں ایک اکرام مسلم ہے ، مگر میرے تجربے کے مطابق ، آپ کے یہاں تبلیغی مسلم کا اکرام ہے ، عام مسلم کا آپ کے یہاں اکرام نہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ حرمۃ المومن اکرم حرمۃمن الکعبۃ۔اِ س حدیث کے مطابق ، ہر مومن کا اکرام اور حترام کے قابل ہے ، لیکن آپ لوگوں کے یہاں صرف وہ مؤ من اکرام اور احترام کے قابل ہے جو آپ کے اپنے حلقے کا ہو۔ وہ لوگ میرے بات کو سن کر چپ ہو گئے۔