Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6جنوری 2006
قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔۔۔۔يحسبون أنّهم يحسنون صُنعاً ( الكهف ٨٩ )مفردات راغبت اصفہانی میں ہے کہ أخصّ من العمل صُنع کے لفظی معنی اگر چہ وہی ہیں جو عمل کے معنی ہیں، مگر صُنع کا لفظ عمل سےزیادہ خاص ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص جب ایک غلط کام کرتا ۔ تو ایسا اسوقت ہوتا ہے۔ جب کہ اس کےذہن میں اس کا ایک خو ب صورت مفہوم آچکا ہو ، اپنے ذہن کی بنا پر وہ سمجھتا ہے کہ میں بہت اچھا کام کر رہا ہوں۔ ایسی حالت میں صحیح کام کرنے کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کی تصحیح کرے۔ یعنی وہی چیز سب کو ڈی کنڈیشنگ کہا جاتاہے ۔ ڈی کنڈیشنگ کرکے اپنے ذہن کودرست بنائے بغیر کوئی شخص صحیح کام نہیںکرسکتا۔