Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5جنوری 2006
گل برگہ سے ٹیلی فون آیا انھوں نے اپنا نام ادریس بتایا ۔انھوں نے کہا میرے خسر میرے خلاف ہو گیے ہیں ۔ وہ مجھ کو پریشان کر رہے ہیں ۔حتی کے دادا کے ذریعی مارنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا آپ صحیح بات نہیں بتا رہے ہیں ۔ آپ کے بولنے کا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ زبان دراز آدمی ہیں ۔ آپ نے اپنے خسر کو کوئی تکلیف پہنچائی ہے جس کی وجہ سے وہ آپ کے مخالف بن گئے ہیں ۔ انھوں نے انکار کیا مگر کافی پوچھ گچھ کے بعد انھوں نے کہا کہ ہاں میں نے ایک درا اپنی بیوی کو تھوڑا مار دیا تھا ۔ میں نے کہا کہ اب بھی آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ آپ کا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپنے تھوڑا نہیں زیادہ مارا تھا ۔ اس لیے اب آپ کے مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ آپ اپنے خسر اور اپنی بیوی دونوں سے معافی مانگیں ۔ وہ سخت لہجے میں بولے اکہ آپ کو مجھ ہی کو برا بتا رہے ہیں ۔ میں نے اس لیے آپ کو فون نہیں کیا تھا ۔
قرآن میںعورتوں کے لیے ضرب (النساء۳۴)کی اجازت آئی ہے ۔ مگر اس کا مقصد باقاعدہ مارنا ہر گز نہیں ہے اس کا وعب صرف تاویلی سرزش ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت فرماتے ہیں کہ اس کا وعب مسواک سے مارنا مسواک سے کسی کو مارا نہیں جاتا بلکہ تنبیہ کی جاتی ہے۔
میرے نزدیک موجودہ زمانے میں عورتوں کو مارنا مکمل طور پر مشروک قرار پایا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ موجودہ زمانے میں بشمول ہندوستان، عورتوں کو مارنا فوج داری ، جرم بن چکا ہے ۔کوئی خاتون اگر پولس میں رپورٹ کر دیں کہ میرے شوہر نے مجھ کو مارا ہےتو پولس فوراً اس شوہر کو گرفتار کر لے گا ۔ ایسی حالت میں عورت کو مارنا زیادہ بڑے شر کو دعوت دینے کے ہم معنی ہے۔