Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13جولائی 2006
کائنات کے دودور ہیں۔ ایک ہے وہ وقت جب کہ کائنات پیدا کی گئی۔ اور دوسرا وہ آج جب کہ کائنات چل رہی ہے ۔ بڑی عجیب بات ہے کہ اتنی بڑی کائنات میں کہیں کوئی نقص نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری وسعت کے باوجود کائنات خدا کےلیے unmanagableنہیں ۔ کسی انسان نے یہ تو نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح کائنات کو پیدا کر رہا ہے ۔ لیکن خدا کی یہ صور ت ہر آدمی آج بھی دیکھ رہا ہے کہ کائنات خدا کےلیے unmanageableنہیں ۔ یعنی خدا کی خالقیت کو تو کسی نے نہیں دیکھا ۔ لیکن خدا کی قیومیت کا مشاہد ہ ہر آدمی ہر آن کر رہا ہے ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسرامشاہد ہ کسی بھی طرح پہلے مشاہدے سے کم اہم نہیں۔
اِسی طرح بعد از وقت زندگی کو کسی نے نہیں دیکھا لیکن قبل ازوقت زندگی کو ہر آدمی دیکھ رہا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ موت سےپہلے اگر زندگی ممکن ہے توموت کے بعد زندگی کا ممکن ہونا اپنے آپ قابلِ فہم بن جاتا ہے ۔ موت کے بعد کی زندگی زیادہ عجیب ہے ، موت سے پہلے کی زندگی اس سے کم عجیب نہیں ۔ پہلے عجیب کو انسان ماننے پر مجبور ہے ۔ ایسی حالت میں یہ ایک غیر منطقی بات ہے کہ آدمی پہلے عجیب کو مانے اور دوسرے عجیب کو ماننے سے وہ انکار کر دے۔
عقلی اعتبار سے دیکھے تو پہلی زندگی کا واقعہ زیادہ عجیب واقعہ ہے کیوں کہ پہلی زندگی عدم سے وجود میں لائی گئی ہے ۔ جب کہ دوسری زندگی کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو وجود میں لانا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دوسری زندگی امتداد کے Continuityکا معاملہ ہے ۔ یعنی وجود میں آنے کے بعد زندگی کے تسلسل کو یہ باقی رکھنا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ تسلسل کے مقابلے میں ایجاد زیادہ مشکل ہے۔ اگر ایجاد حیات ناممکن نہ تھا تو تسلسل حیات کیسے ناممکن ہو سکتا ہے ۔