Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21جنوری 2006
ایک روایت کے مطابق ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنّ أحدكم يُسأل يوم القيامة حتى يكون فيما يسأل عنه أن يقال ما منعك أن تنكر المنكر وإذا رأيته قال : فمن لقّن الله عبدا حجّته قال : ربّ رجوتك وخفت الناس(مسند احمد ، جلد سوم ، صفحہ: 27)
یعنی تم میں ایسے افراد ہوں گے جن سے قیامت کے دن ضرور سوال کیا جائے گا، یہاں تک کہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ تم کو کس چیز نے منع کیا کہ تم بُرائی کو دیکھو اور اس کے خلاف نہ بولو۔ پھر خداجب ان پر حجت پوری کر دے گا ، اور وہ اپنی غلطی کو ماننے پر مجبور ہو جائیں گے تو وہ کہیں گے اے میرے رب : میں تجھ سےپُر امید رہا اور لوگوں سے خوف کیا۔
اِس حدیث میں اس کے آگے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ آدمی کے اس جواب کے بعد خدا اس سے کیا کہے گا ۔ لیکن قرآن و حدیث کے دوسرے بیانات کی روشنی میںغور کیا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خدا اس کے اِس عذر کو قبول نہیں کرے گا۔ خدا کہے گا کہ تم انسانوں سے ڈرے اور مجھ سے نہیں ڈرے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے انسانوں کے خوف کو بڑا سمجھا اور میری پکڑ کے خوف کو چھوٹا سمجھا۔