Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17فروری 2013
ڈنمارک کے ایک اخبار میں 24ستمبر 2005کو پیغمبر اسلام پر ایک مضمون چھپا۔ صحافتی رواج کے مطابق،اردو مضمون کے ساتھ کچھ کارٹون شامل کیے گئے ۔ اِن کا ر ٹونوں میں دکھا یا گیا تھاکہ پیغمبر اسلام کے سر پر ایک بم ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں چھڑی لیے ہوئے ہیں ۔ یہ کارٹون جب مسلمان کے علم میں آیا تو ساری دنیا کے مسلمان اس پر بھڑک اٹھے ۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ساری دنیا میں مسلمان معاملہ میں استثنا ء نہیں ۔ا س موضوع پر ایران کے ایک مسلم فارسی اخبار میں ایک کار ٹون چھا پا ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام جب مدینہ میں تھے تو ایک یہودی بڑھیا روزانہ آپ کے اوپر گھرکا کوڑا ڈالتی تھی ۔ ایک دن کوڑا نہیں آیاتو آپ ؐ نے دریافت کیا کہ ایسا کیوں ہوا۔ معلوم ہوا کہ بڑھیا بیمار ہے ۔ آپ اس کے گھر گئے ۔ آپ نے اس کی عیادت کی اور اس کے لیے دیا کی۔
یہ واقعہ اگر تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ ’’کوڑا‘‘ پھینکنے والے کوڑ ا پھیکیں گے ۔ اس لیے اصل مسئلہ کوڑا پھینکنے کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کو جواب کیا دیا جائے ۔ اس کا جوا ب یہ ہے کہ کوڑا پھینکنے والوں کو دعائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے ۔
کارٹون کے زمانے میں پہلی بار یہ ثابت کیا ہے کہ تقریباً سارے ہی مسلمان صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے ہیں ۔ سارے مسلمان کا حال یہی ہے کہ انھوں نے پیغمبر کو بیغمبر بنا لیا ہے ۔ جب کہ صحیح یہ ہے کہ پیغمبر کو بیغمبر اسوہ بنایا جائے ایک شاعر نے اپنے نعتیہ کلام میں کہا ہے :
راہ میں جس نے کاٹے بچھائے ، گالی دی ، پتھر برسائے اس پر چھڑ کی پیاس کی شبنم صلی اللہ علیہ وسلم
یہ بات بور کے لیے ہے بلکہ وہ اس لیے ہے کہ مسلمان اپنی زندگی میں اسی کو اختیار کریں ۔ وہ منفی کاروائیوں کا جواب مثبت اندا میں پیش کریں ۔