Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22مارچ2006
پُرانی دلّی میں ایک صاحب تھے۔ ان کا نام فصیح الدین احمد تھا۔ وہ بلڈنگ کا نسٹرکشن کا کام کرتے تھے ۔ اِس کام میں انھوں نے کافی پیسہ کمایا۔ مگر ان کےیہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ ان کی ماں کو اِس کا شدید احساس تھا کہ فصیح الدین نے کافی دولت کمائی مگر ان کا کوئی وارث نہیں ۔ وہ پرانی دلّی میں میرے پڑوس میں تھے۔ میری بیوی اکثر ان کےیہاں جاتی رہتی تھیں۔ میری بیوی نے بتایا کہ فصیح الدین صاحب کی والدہ اکثر یہ کہتی ہیں:
ہائے فصیح کی دولت کون لے گا، ہائے فصیح کی دولت کون لے گا!
فصیح الدین صاحب کی ماں اگر با شعور ہوتیں تو وہ اپنے بیٹے سے کہتی کہ تمھارے یہاں اولاد نہیں تو کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ تم یہ کرو کہ اپنی دولت سے ایک اچھا تعلیمی اسکول بنا ئو۔ اِس سے ہزاروںبچوں کو فائدہ ہوگا۔ مگر یہ اعلیٰ سوچ نہ فصیح صاحب کے اندر پیدا ہوئی اور نہ ان کی والدہ کے اندر۔ یہاں تک کہ دونوں مرکر اِس دنیا سے چلے گئے۔
میں1983تک پرانی دلّی میںتھا۔ 1983میں میںپرانی دلّی چھوڑ کر نظام الدین ویسٹ آگیا۔ ایک باروہ ہمارے نئے مکان میں آئے تو یہاں ان سے ملاقات ہوئی۔ لیکن ان کی سوچ سطح اب بھی وہی تھی جو پہلے اُن کی تھی۔