Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14مارچ 2006
ڈاکٹریوسف الدین( حیدرآباد) نے یہ سوال کیا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ انسان کو مثبت انداز میں کلام کرنا چاہیے ۔مگر قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ انسان جھگڑا الو پیدا کیا گیا ہے۔ ( وكان الانسان اكثر شئ جدلاً )انہوں نے کہا کہ انسان جب پیدائشی طور پر جھگڑالو ہے تو وہ مثبت روش پر کیسے قائم رہ سکتا ہے۔
میں نے کہا کہ اسلام میں اصل مطلوب یہ نہیں ہے کہ آدمی مکمل طور پر بے جھگڑاےوالی زندگی گزار ے۔ اصل یہ ہے کہ اپنی فطرت کی بنا پر انسان غصہ ہوگا اور جھگڑا کرے گا لیکن جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے اور معافی مانگنا چاہیے ۔ایسا اس لیے ہے تاکہ انسان زیادہ بڑی نیکی کر سکے اپنی غلطی کا اعتراف بہت بڑی نیکی ہے۔ اس نیکی کا حصول اس وقت ممکن ہے جبکہ آپ غلطی کریں اور پھر اس کا اعتراف کر کے اپنے کو مثبت روش کی طرف لے جائیں۔ اسی کا نام توبہ ہے۔