Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27اگست 2006
۲۷ اگست ۲۰۰۶ء کو حسب معمول ہفتے وار اسپریچول کلاس تھا۔ اِس بات تقریر کا موضوع تھا : آئڈیل ورلڈ کی تلاش
مفصل تقریر میں میں نے کہا کہ انسان کے ذہن میں ایک آئڈیل ورلڈ کو پانے کا جذبہ پیدائشی طور پر موجود ہے ۔ ہر آدمی اس کو پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہر آدمی اس کو پانے سے محروم رہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئڈیل ورلڈ سے مراد جنت ہے ، اور جنت صرف آخرت میں ملے گی ۔ میں نے کہا کہ تاریخ کے تمام ریفارمر اور تھنکر مایو سی میں مرے ۔ اس لیے کہ انھوں نے اس دنیا میں آئڈیل اسٹیٹ اور آئڈیل سماج اور آئڈیل سسٹم بنانا چا ہا جو کبھی یہاں بن نہیںسکتا تھا۔ یہ وجہ ہے کہ ہر ایک آخر میں احساسِ محرومی کے ساتھ مرا۔ مثلاً افلاطون آئڈیل اسٹیٹ بنانا چاہتا تھا، لیکن بادشاہ تک رسائی ہونے کے با وجود وہ نا کام رہا اور اس کے حالا ت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ :
He died as a frustated person.
میں نے کہا کہ اِس معاملے کی مثال یہ ہے کہ ایک اسٹوڈنٹ امتحان ہال میں داخل ہو، اور وہ اپنا سارا وقت وہاں جاب تلاش کرنے میں بتا دے تو وہ یقیناً محروم رہے گا ۔ کیوں کے جاب کو پانے کا مقام امتحان ہال کے باہر ہے نہ کہ اس کے اندر ، محرومی کے اِسی تجربے کو لے کر یہ مثل بنی ہے کہ :