Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8فروری 2006
بشیر بدر ایک شاعر ہیں ۔ میرٹھ کے فرقہ وارانہ فساد میں ان کا گھر فساد کی زد میں آگیا اور جل کر تباہ ہو گیا۔ بشیر بدر کی اس کا بہت زیادہ غم تھا۔ وہ حج کے لیے گئے تو انھوں نے وہاں کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعاء کی کہ خدا یا ! تو انڈیا پر اپنا عذاب بھیج کر انڈیا کو تباہ کر دے۔ میرے نزدیک اس طرح کی دعا کرنا ایک لغو کام ہے۔ دعا اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک مثبت عمل ہے۔ بشیر بدر کو اگر دعا کرنا تھا تو انھیں یہ دعا کرنا چاہیے تھا کہ خدا یا! تو دنیا اور آخرت میں مجھے میرے گھر کا نعما البدل عطا فرما۔
یہ بات بشیر بدر کے ایک دوست کے ذریعے میڈیا تک پہنچ گئی ۔ میڈیا میں اِس پر زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ میرے نزدیک اِس قسم کی دعا احمقانہ حد تک بے معنی ہے۔ ایسی دعا کبھی قبول نہیں ہوتی۔حتیٰ کہ ایک عرب مسلمان مکّہ میں اکھٹا ہو ں اور بد دعا کریں تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا ۔ قرآن کے دلی سبق،کسی ملک یا قوم کی بربادی کا تعلق کسی کی بددعا سے نہیں اور نہ محض کسی قلم کے ظلم پر اس کے اوپر ایسا عذاب آتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ وماکان ربك مهلك القرى بظلم واهلها غافلون۔ اِ س آیت کے مطابق ، کسی قوم کی ہلاکت کا فیصلہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی قوم کو دعوتی عمل کے ذریعہ اِ س کو انجام حجت کی حد تک آگا کر دیا گیا ہو۔ مگر اب ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ کیو کہ اِ س قسم کی اتمام حجت صرف پیغمبر کے ذریعے لکھاہے،اوراب آنے والا نہیں۔