Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22اکتوبر 2006
احادیث کے ذخیرے میں بہت سی حدیثیں مستقل کی پیشن گوئی کے طور پر آئی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث اِس طرح آئی ہے :
عن أنس بن مالك قال ، قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم : وددتُ أني لقيتُ لقيتُ إخواني . قال ، فقال أصحاب النبي صلى اللّه عليه وسلم : أوليس نحن إخوانك . قال : أنتم أصحابي ولـٰكن إخواني الذين آمنوا بى ولم يروني ." ( مسند احمد ، جلد ٤ ، صفحه ١٥٥ )یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کے سے ملوں ۔ صحابہ نےکہا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ آپ نےفرمایا : تم میرے اصحاب ہوں ، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو میرے اوپر ایمان لائیں گے جب کہ انھوں نے مجھے دیکھا نہیں۔
اِس حدیث پر غور کرتےہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اِس سے مراد کل کے مسلمانون کےمثل مسلمان نہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو مثلِ صحابہ ایمان (البقرہ۱۳۷)حاصل ہو۔ صحابہ کےمثل ایمان کے بغیر وہ اخوانِ رسول نہیں بن سکتے۔
صحابہ نے آپ پر اُس وقت یقین نہیں کیا جب کہ آپ صرف محمد بن عبد اللہ تھے ۔ آج کے مسلمان آپ کو اُس وقت مان رہےہیں جب کہ آپ کے ساتھ ایک شان دار تاریخ وابستہ ہو چکی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اخوانِ رسول کا رُکن وہ شخص ہوگا جو بعد کو بننےوالی تاریخ کو حذف کر کے آپ کی رسالت کو پہنچانے اور اس پر یقینن کرے۔ جو تقلیدی ایمان سے اوپر اٹھ کر معرفت کی سطح پر ایمان کا ثبوت دے سے۔ موجودہ زمانے کے روایتی مسلمان ہر گز اس کا مصاق نہیں ہو سکتے۔