Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17جون 2006
۹جون ۲۰۰۶ءکی تاریخ میں اِس ڈائری میں مولانا علی میاں کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ شکاگو میں آل مذاہب کانفرنس میں انھیں اسلام کی نمائندگی کے لیے بلا یا گیا ۔ پروگرام کے آغاز میں وہاں بھجن اور منتر ہو رہا تھا اِ س بنا پر مولانا کو وہاں کی فضامیں شدید ظلمت محسوس ہوئی ۔ وہ وہاں خطاب کیے بغیر واپس آگئے۔ مولانا علی میاں کا یہ عمل سنتِ نبوی کے سرا سر خلاف ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے مکّی دور میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وہاںمشرک لوگ اپنی عبادت کے وقت تالی اور سیٹی بجاتے تھے۔ مذکورہ تعریف کے مطابق ، یہ بلاشبہ ظلمت کا واقعہ تھا۔ اِس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جاتے ، اور وہاںن موجود لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچاتے۔
اصل یہ ہے کہ کعبہ میں اگر چہ ظلمت ، موجودہ تھی ۔ لیکن اسی کے ساتھ وہاںدعوت کے مواقع موجود تھے ۔کیوں کہ کعبہ کی تاریخ عظمت کی بنا پر وہاں مشرک لوگ اکھٹا ہوا کرتے تھے ۔ یہ مشرکین ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں اور نہیں مل سکتے تھے ۔ اس لیے آپ نے ظلمت کو نظر انداز کیا ، اور دعوت کے مواقع کو استعمال کیا۔
مولانا علی میاں کا مذکورہ واقعہ سنتِ نبوی کے سراسر خلاف تھا۔ یہ معاملہ صرف مولانا علی میاں کا نہیں ۔ بلکہ اس دور کے تقریباً تمام علماء کا یہی معاملہ ہے۔ ست نے یہ کیا کہ ظلمت کا حوالہ دے کر غیر مسلموںن سے وہ دور رہے اور دعوتی مواقع کو استعمال نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتاتی ہے کہ -ظلمت کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔ مگر میرے علم کے مطابق ، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام علماء نے اِس سنت کے خلاف عمل کیا۔