Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28مارچ2006
اپنےعلم اور تجربے کی روشنی میں میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کسی بھی دن اپنی نئی زندگی شروع کر سکے۔ اِس معاملے میں کوئی بھی تاخیر حقیقی تاخیر نہیں ۔اِس نئی زندگی کا تعلق جسمانی اعتبار سے بھی ہے اور ذہنی اعتبار سے بھی ،البتہ اس کی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی کسی کو یہ درجہ مل سکتا ہے۔
مثلاً ایک شخص ہے جس کی جسمانی صحت خراب ہو چکی ہے ۔وہ ہر دن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک نئی صحت مند زندگی حاصل کر ے۔ جسمانی صحت کیوں خراب ہوتی ہے اس کی وجہ سے صرف ایک ہے اور وہ ہے غلط عادت۔ زیادہ کھانا ،لذیذ کھانے کا استعمال، تمباکو اور شراب جیسی چیزیں استعمال کرنا ،غصہ اور نفرت میں جینا،جنسی ہوس کا شکار رہنا، آرام طلب بن جانا، وغیرہ۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ اس قسم کی تمام خلاف صحت عادتوں کو چھوڑ دے تو کسی بھی دن وہ اپنے لیے ایک نئی جسمانی صحت حاصل کر سکتا ہے۔
یہی معاملہ ذہنی اور روحانی ترقی کا ہے۔ آدمی ہردن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کا ایک نیا سفر شروع کر سکے ۔مگر یہاں بھی اس کی ضروری قیمت ادا کرنی ہے۔ وقت کا بھرپور استعمال ،غیر ضروری تفریحات سے اپنے اپ کو بچانا، دلچسپیوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا ،متعصبانہ طرز و فکر سے اپنے آپ کی پاک کرنا، اپنے اندر کامل تواضع کی صفت پیدا کرنا ،ہر وقت اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار رہنا، مطالعہ اور غور و فکر والی زندگی اختیار کرنا، وغیرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ خطابت کے امکاناتلامتناہی طور پر بہت زیادہ ہیں۔ ہر آدمی اِس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنے ماضی کی کوتاہیوں کو ختم کر کے نئی زندگی شروع کر سکے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس کی ضروری قیمت دینے کے لیے تیار ہو ۔اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آدمی کسی بھی عذر کو عذر نہ بنائے۔
If you have a good excuse don't use it.