Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5اگست 2006
جدید سائنس بتاتی ہے کہ موجودہ کائنات ابتدا میں ایک سپر ایٹم کی شکل میں تھی۔ ۱۳ بلین سال پہلے اس سپر ایٹم میں اکسپلوزن ہوا۔ اس کے ذرات خلا (Space)میں پھیل گئے۔ پھر یہی ذرات تھے جن کے ذریعے ستارے اور سیّارے وغیر بنے۔ میں نے یہ منظر واشنگٹن کے پلا یئریم میں دیکھا ہے۔ سائنس میں اس کو کاسمک بال کہا جاتا ہے ۔ یہ کا سمک بال تیرہ بلین سالہ پہلے پٹھا تھا۔ پھر اسباب و علل کے قانون کے مطابق ، خود اس کا سمک بال کو بنے میں بھی ایک لمبی مدت گزری ہوگی۔ پھر جس اسپیس میں یہ واقعہ ہوا وہ بھی ایک تخلیق ہے۔ پھر خلا کو اسباب و علل کے تحت بننےمیں لمبی مدت در کار ہوگی۔ ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ یہ ساری مدت تقریباً ۲۵بلین سال ہونا چاہیے۔ اِ س لمبے تخلیقی عمل کا فائنل پرودکٹ وہ چیز ہے جس کو جنت کہا جاتا ہے۔
میں نے سوچا کہ جس جنت کو بنانے میں ۲۵بلین سال لگ گئے ۔ کن لوگوں کو ملے گی ۔ میں نےکہایہ سمجھنا کہ موجودہ قسم کے مسلمان اِس جنت میں داخل کیے جائیں گے، ایسا سمجھنا بلاشبہ جنت کی تصحیر ہے۔ جنت کا مستحق بننے کے لیے کوئی بہت اعلیٰ صفت مطلوب ہونا چاہیے ۔ ایسی صفت جو جنت کے ہم رتبہ ہو۔ میرے خیال کے مطابق ، وہ صفت یہ ہے -جنت اور خالقِ جنت کی شعوری دریافت ، اپنے کامل درجے میں ۔
یہ جنت کا مستحق ہونے کا پہلا معیار ہے ۔ دوسرا معیار یہ ہے کہ آدمی اس بات کا سچا اعتراف کرے کہ وہ اس دریافت تک نہیں پہنچ سکا۔ کامل معرفت یا کامل اعتراف ، ان دو کے سوا کوئی تیسری چیز نہیں جو آدمی کو جنت کا مستحق بنائے۔