Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25فروری 2013
قران کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے :
’’اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور نہ ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ تاکہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ بطریقِ گناہ سمجھا جائو۔ حالانکہ تم اس کو جانتے ہو۔‘‘(البقر188 )
اس آیت کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ آج کے بارے میں اُتری ہے ۔آج کل عدالتی نظام کو ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کہا جاتا ہے یعنی انتظام عمل۔ مگر موجودہ عدالتی نظام عملاً انصاف حاصل کرنے کا نظام نہیں رہا ہے۔ بلکہ وہ باطل طور پر دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کے لیے ایک قانونی ہتھیار بن گیا ہے ۔میرےتجربے کے مطابق موجودہ عدالتوں میں۹۹ فیصد سےسے بھی زیادہ ایسے مقدمات ہوتے ہیں جھوٹے دعووں پر قائم ہوتے ہیں۔ میں خود بھی ذاتی طور پر اس کا شکار بنا ہوں۔ موجودہ عدالتوں میں ایک فیصد سے بھی کم ایسے مقدمات آتے ہیں جو واقعتہً انصاف پر مبنی ہوں۔