Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سئمتُ تكاليفَ الحياة ومن يعش ثمانين حولاً لا أبا لك يسأم
میری عمر اب اسّی سال سے زیادہ کی ہو چکی ہے ۔ اپنے تجربے کی روشنی میں میں کہہ سکتا ہوں کہ لمبی عمر بلا شبہ جسمانی اعتبار سے ایک بوجھ بن جاتی ہے ۔ لیکن ذہنی اعتبار سے وہ بوجھ نہیں بلکہ ایک نعمت ہوتی ہے۔ کیوں کہ زیادہ عمر کا مطلب ہے زیادہ علم ، زیادہ تجربہ ، زیادہ معرفت ، اور زیادہ بصیرت ۔ یہ چیز جو لمبی عمر میں ملتی ہے وہ کسی کو کم عمری میں حاصل نہیں ہوتی۔آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھے اور اپنے علم و بصیرت کو مثبت طور پر استعمال کرے تو وہ نہ اُکتا ئے گا اور نہ مایوس ہوگا۔ بلکہ وہ نئے حوصلے کے ساتھ از سرِ نو زندگی کا سفر شروع کر دےگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر دو صفتیں ہوں۔ ایک ، امکانات ِ فطرت کا شعور، دوسرے انسان کے ساتھ گہری خیر خواہی ، جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں ہوں وہ بر عکس طور پر یہ سوچے گا کہ آج دنیا کو دینے کے لیے مریے پاس ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ مجھے یہ کرنا چاہیے کہ میں اِس سر مایے کو تمام انسانوںکی امانت سمجھوں اور اس کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنی بقیہ زندگی وقف کردوں۔