Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10اپریل 2006
عائشہ صدیقہ کے حوالے سے ایک تفصیلی روایت آئی ہے ۔اس روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے تین آدمیوں کوسب سے اعلیٰ درجہ دیا ہے ۔ ابو بکر بن ابی قحافہ ، عمر بن الخطاب ، ابو عُبیدہ بن الحراج ۔ روایت کے مطابق ، اس میں چوتھا نام عائشہ بنت ابی بکر کا ہے ۔ کوئی پانچواں آدمی اِس فہرست میں شامل نہیں ۔( جامع الاصول ، الجزء الثامن ، ٥٧٨ - ٥٧٧ )
غور کرتے ہوئے میری سمجھ میںآتاہے کہ یہ چاروںصاحبان اعلیٰ ذہانت کے باوجود ہر قسم کے کامپلکس کے اوپر اُٹھ گئے۔ ان کو خدا کی معرفت کا وہ بلندترین درجہ ملا جس کے بعد ہر دوسری چیز حذف ہو جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہی ہے کہ یہ چاروںصاحبان غلطی سے پاک تھے۔ غلطی ہر انسان سے ہوتی ہےلیکن یہ وہ لوگ تھےجو کامپلکش کی بناپر کسی غلطی میںمبتلا نہیں ہوسکتے تھے۔ وہ وقتی طور پر کوئی غلطی کر سکتے تھے۔مگر اسکے بعد اسی شدت کے ساتھ وہ اس کا اعتراف کرتےہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ ذہانت کے ساتھ حقیقی تواضع (Modesty)اکھٹا نہیں ہوتی۔ یہ وہ لوگ تھے جو اگر چہ اعلیٰ ذہانت کے حامل تھے مگر اسی کے ساتھ اِن کی ذات میںحقیقی تواضع یکجاہوئی۔ اِن دونوں، چیزوں کااجتماع اِتنازیادہ نادرہے کہ بعد کی اسلام کی تاریخ شایدعمر بن عبد العزیز کے سوا کسی اورکو یہ درجہ حاصل نہیں ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عام لوگ اِس حقیقت سے اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ تواضع اور حقیقی تواضع میں کیا فرق ہے۔ حقیقی تواضع کا مطلب ہے کہ سچ مچ ہی اپنے کو کچھ نہ سمجھنا ۔ اِس معاملے میں لوگ اتنازیادہ بےخبر ہیں کہ ایک متکبر المزاج شخص حقیقی معنوں میں تواضع سمجھ لیتے ہیں ، حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔