Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26اکتوبر2006
بی بی سی لندن سے ٹیلی فون آیا ۔ اس کی نمائندہ ماہ پارہ صفدر بول رہی تھی ۔ انھوں نے سوال کیا کہ قرآن (النساء:۳۴)میں آیا ہے کہ عورت کے بارے میں اگر تم کو نُشوز یعنی عصیان (سرمابی )کا اندیشہ ہو تو اس کو مارو ۔ (فاضربو ھن )انھوں نے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ میں نے کہا کہ یہاں ضرب سے مراد علامتی ضرب ہے۔ یہ تشریح حدیث میں موجودہ ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ اِس سے مراد ضرب غیر مبرّح ہے، جیسے کہ مسواک مارنا ۔ ظاہر ہے کہ حقیقی معنوں میں مارنا مقصود ہو تو کوئی بھی شخص مسواک سے نہیں مارے گا ۔ کیوں کہ مسواک کے کسی کو چوٹ نہیں لگتی ۔ آج کل کی زبان میں مسواک کے بجائے ٹوٹ برش کہا جا سکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ٹوٹ برش کے مارنے کا مطلب علامتی ضرب ہی ہو سکتا ہے ، یعنی کسی معاملے میں اپنی نا راضگی کا اظہار۔