Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5ستمبر 2006
آج صبح تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والےدو مسلمان ملا قات کے لیے آئے۔ دونوں کیرلا کے باشندے تھے۔ ان میں سے ایک حافظ نعمان تھے۔ وہ منگلور کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ ان کے دوسرے ساتھی بیس سال سےمکّہ میں رہتے ہیں۔ وہاں ان کی موبائل وغیرہ کی دکان ہے۔وہ مکہ سے انڈیا تبلیغی چلّے کے لیے آئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا مکہ سے انڈیا آنے اور چلّہ لگانے میں آپ کا کُل کتنا پیسہ خر چ ہوگا۔ انھوںنے کہا کہ دولاکھ روپیہ۔ وہ عربی زبان جانتے تھے ، انھوں نے میری کتاب الاسلام متحدی پرھی ہے۔میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت میں آدمی کے قدم اُس وقت تک آگے نہیںبڑھیں گے جب تک کہوہ دو سوالوںکاجواب نہ دے دے ۔ایک، یہ اس نےمال کہا سےکمایا ۔ اور دوسرے یہ کہ کمائے ہوئے مال کوکہاں خرچ کیا۔میں نے کہا کہ آپ اِس حدیث پر غور کیجئے اور سمجھئے کہ کیا آپ اِس پر مطمئن ہیں۔
دوسری بات میں نے ان سے یہ پوچھی کہ اِس چلّےاور سفر میںآپ کے دو لاکھ روپیے خرچ ہوئے۔ میں آپ سے لیزدادوایمانہم کی روشنی میں پوچھتاہوںکہ آپ صرف دوایسی نئی باتیں بتائیے جوآپ نے اپنےاِس سفر میں سیکھیں، اور جو آپ کے لیے ازدیادِایمان کاسبب بنیں۔وہ اوران کے ساتھی دونوںایسی کوئی بات نہ بتاسکے۔