Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16نومبر 2006
ایک حدیث مسند احمد اور ابو دائود نے روایت کی ہے ۔ابو دائود کے الفاظ یہ ہیں: ثمّ فتنة الدُّهيماء لا تدع احداً من هـٰذه الأمّة إلا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’فتنہ دھیماء‘‘کا ذکرکیا ۔ وہ اس امت کے کسی فردکو چھوڑےبغیر ہرایک کواپنی لپیٹ میںلےلے گا۔(ابو دائود ، جلد ۴، صفحہ ۹۲)
فتنہ دہیما ء کے معنی ہیں کالا فتنہ ، یعنی گمراہ کُن افکار اتنےزیادہ چھاجائیں کہ آدمی کو سچائی دکھائی نہ دے۔ میں سمجھتا ہوںکہ موجودہ زمانے اِسی فتنہ دہیما ءکا زمانہ ہے ۔ پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے وجود میں آنے کے بعد یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔آج کاانسان افکار کے کالے جنگل میں جی رہاہے ۔آج طرح طرح کے افکار اتنے زیادہ چھاگئے ہیں کہ عام انسان کےلیے یہ ناممکن ہو گیاہے کہ وہ باطلسے الگ کرکے حق کو دیکھ سکے۔