Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12اپریل 2006
صحابہ کے’’ مشاجرات‘‘ کی کوئی قابلِ قبول عقلی توجیہہ کوئی ابھی تک نہیں کر سکا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی صحیح اور فطری توجیہہ یہ ہے کہ جہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تعلق ہے، تمام صحابہ یکساں طور پر رسول اللہ سے محبت رکھتے تھے۔ اس بنا پر یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ تمام صحابہِ رسول اللہ کے روایت کرنے کے معاملے میں اوتقہ راوی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر جہاں تک اسلامی شعور کی بات صحابہ کے درجات ہے۔ میرے نزدیک غالباًچار اصحاب ایسے ہیں جو اعلیٰ اسلامی شعور کے درجے تک پہنچے۔ وہ یہ: ہیں ابو بکر بن ابو قحافہ ،عمر بن الخطاب، ابو عبیدہ بن الجراح، عائشہ بنت ابی بکر۔
میری سمجھ کے مطابق ،صحابہ اپنے اخلاص کی بنا پر جنت میں جائیں گے لیکن دنیا میں ان سے کئی غلطیاں ہوئیں جن کو مشاجراتِ صحابہ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے واقعات بدنیتی کی بنا پرنہ تھے ۔ان کی حیثیت اجتہادی خطا کی ہے ۔مثلاً علی اور معاویہ کے دمیان ،جنگ ایک اجتہادی خطا تھی ۔ حسین ابن علی یزید کے خلاف خروج ایک اجتہادی خطا تھی ۔ عبداللہ زبیر کی بنو امیّہ سے جنگ ایک اجتہادی خطا تھی وغیرہ ۔ بخاری کی روایت کے مطابق ، اجتہادی خطا قابل معافی ہوتی ہے ۔ اِس لیے اجتہادی ذمی سے صحابی کی صحابیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
اخلاص کے اعتبار سے بلا شبہ تمام صحابہ یکساں درجے پر تھے۔ مگر اعلیٰ اسلامی شعور صرف کچھ صحابہ کو حاصل تھا۔ اور ایسا ہونا عین فطری بات ہے۔