Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23دسمبر 2006
ایک روایت حدیث کی کئی کتابوں میں آئی ہے ۔ مشکوۃ کے الفاظ یہ ہیں : عن أمّ الدرداء قالت : سمعتُ أبا الدرداء يقول : سمعتُ أبا القاسم صلى اللّه عليه وسلم يقول : إنّ اللّه تبارك وتعالىٰ قال : يا عيسىٰ ! إنى باعث من بعدك أمة إذا أصابهم ما يحبّون حمدو اللّه ، وإن أصابهم مايكرهون احتسبوا وصبروا ولا حلمَ ولا عقلَ . فقال : ياربّ ! كيف يكون هـٰذا لهم ولا حلمَ ولا عقلَ . قال : أُعطيهم من حلمي وعلمي ." ( رواه البيهقى فى شعب الإيمان ، مشكاة المصابيح ، رقم الحديث ١٧٦١ )
اِس حدیث کا مطلب ایک اور حدیث کو سامنے رکھ کر سمجھ آتا ہے ۔ اس دوسری حدیث میں جو حدیث جبریل کہی جاتی ہے ، عبادت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں : أن تعبد اللّه كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك ( البخارى ) اِ س دوسری حدیث میں عبادت کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی استخصار (Presence of God)کا احساس اتنا زیادہ ہونے لگے کہ وہ گویا کہ خدا کو دیکھ رہا ہے ۔ اور اگر استحصار کا یہ مرتبہ اس کو حاصل نہ ہو تو وہ یہ سوچ کر عبادت کرے کہ میں اگر چہ خدا کو نہیں دیکھ رہا ہوں ، لیکن خدا تو مجھے دیکھ رہا ہے ۔
عبادت کے بارے میں اس دوسری حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے پہلی حدیث کا مطلب سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ علم اور عقل کا ایک درجہ وہ ہے جو سوچ کر حاصل ہوتا ہے ۔ یہ ابتدائی درجہ ہے ۔ اگلا درجہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں آدمی کی معرفت اتنی زیادہ بڑھ جائے کہ وہ اس کےک مزاج میں شامل ہو جائے ۔ خود اس کا مزاج ہی اس بات کے لیے کافی ہو جائے کہ وہ تجربات کے دوران علم اور عقل کا رسپانس پیش کرے۔
حضرت عیسیٰ کے بعد کے زمانے کے لیے یہ بات علی الاکثر کے اصول پر کہی گئی ہے( على الأكثر حكم الكل ) یعنی پیغمبر اسلام کے بعد جو دورِ معرفت شروع ہوا ہے ، اس میں ایسے لوگ بہت زیادہ ہوں گ جو اِس اعلیٰ معرفت کو پہنچیں گے ۔ جب کے اس سے پہلے اور بھی ایسے لوگ نسبتاً قلیل ہوں گے۔