Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22جولائی 2006
یہ عام تجربہ ہے کہ غصہ ہمیشہ کسی چھوٹی چیز پر آتا ہے لیکن اگر اس کو فوراً روکانہ جائے تو جلد ہی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ وہ آگ کی طرح آدمی کے سینے میں بھڑک اُٹھتا ہے ۔
اس کا سبب کیا ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کادماغ کمپیوٹر کےمانند ہے ۔ کمپیوٹر میں جب آپ کوئی فائل کھولیں تو اس نوعیت کی تمام چیزیں اس فائل میں آجائیں گی ۔ یہی معاملہ غصّہ کا ہے ۔ ۔غصّہ کرنا در اصل دماغ میں غصہ کا فائل کھولنا ہے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے تو دماغ میں موجود تمام نیگیٹو آئٹم اس فائل میں آجاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ غصہ آتے ہی اچانک غصہ بھڑک کر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ غصہ آتے ہی فوراً اس کو ختم کیا جائے تاکہ دماغ میںغصہ کا فائل کھلنے کی نوبت نہ آئے۔