Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15نومبر 2006
حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوںنےکہا کہ پاکستان کے ڈاکٹر اسراراحمد نے اپنی ایک تقریر میںکہاہےکہ جمعہ کی اذان کے بعد تجارت کرناحرامہے ۔ اِس کی دلیل غالباً ان کے نزدیک یہ آیت ہے: فإذا نودى للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلىٰ ذكر اللّه و ذروا البيع ( الجمعه )
میںنے کہا کہ یہ غلو اسلا م میں جائز نہیں ۔ لا تغلوا فى دينكم ( القرآن )لا غلو في الاسلام ( الحديث )پھر میں نے کہا کہ غلو کیا ہے ۔ گلو در اصل یہ ہےکہ کسی بات کو اس کی منطقی حد (Logical End)تک پہنچایا جائے ۔مثلاً قرآن کی مذکورہ آیت میں صرف یہ ہےکہ جب جمع کی اذان ہو تو تجارت کو بند کر کے مسجدکی طرف آئو۔اس آیت میںحرام کالفظ نہیں ہے ۔ اب اگرکوئی شخص اس کے حرام کا مسئلہ نکالے تو اس کو غلو کہاجائے گا ۔آدمی کو چاہیے کہ حرام اور حلال کے معاملے میں وہی کرے جوقرآن اورحدیث میں آیا ہے ۔ وہ اس میں منطقی معنی نکال کراپنی طرف سےاضافہ نہ کرے۔