Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11مارچ 2006
اکثرلوگ کسی کام کو نہ کرنے کے لیے ایک عذر پیش کر دیتے ہیں۔ یہ لوگوں کی عام کمزوری ہے۔ میرے تجربے کے مطابق عذر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک معمولی عذر اور دوسرا غیر معمولی عذر۔ معمولی عذر یہ ہے کہ کسی رشتے دار کوریلوے اسٹیشن پہنچانا یا کسی پارٹی میں جانا۔ وغیرہ۔ غیر معمولی عذر یہ ہے کہ آدمی سخت بیمار ہو جائے یا اچانک کوئی بڑا حادثہ پیش آ جائے۔ جہاں تک معمولی عذر کا تعلق ہے وہ ہر دن پیش آتے رہتے ہیں ایسے عذرات کے بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو عذرنہ بنایا جائے ۔ایسے عذرات کو نظر انداز کر کے اپنا کام کیا جائے۔ البتہ غیر معمولی عذر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ غیر معمولی عذر مجبوری کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ اور جب حقیقی مجبوری کی صورت پیش آجائے تو ایسی حالت میں عذر کو عذر بنانا درست ہوگا۔