Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20مئی2006
ہم دہلی میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت ہفتے میں دو اجتماع کرتے ہیں ۔ اتوار کے دن عمومی اجتماع ہوتا ہے اس میں زیادہ لوگ آتے ہیں ۔ جمعہ کی شام کو خصوصی اجتماع ہوتا ہے ۔ اس میں کم لوگ آتے ہیں ۔ جمعہ کا اجتماع صرف ان لوگو ں کے لیے ہے جو ہمارے مشن سے صد فیصد اتفاق کرتے ہیں ۔ جنھیں ہمارے مشن سے کسی بھی قسم کا اختلاف نہ ہو۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہمارے اتوار کے اجتماع میں برابر آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے جمعہ کے اجتماع میں بھی آنا چاہتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ جمعہ کا اجتماع صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو ہمارے مشن سے کّلی اتفاق رکھتے ہوںجو کسی بھی قسم کا اِف اینڈبٹ (Ifandbut)نہ لگاتے ہو،میں نے ان سے یہ بات بتکرارکہی۔ انھوںنے کہا کہ آپ میرے اوپر شبہہ کیوں کرتے ہیں میں آپ سے کامل اتفاق رکھتا ہوں۔
19مئی 2006کو جمعہ کا دن تھا ۔ وہ شام کے اجتماع میں تشریف لائے ہمارے یہاں اجتماع کے بعدسوال اور جواب ہوتا ہے ۔ ۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک کو سلپ دی جاتی ہے کہ وہ اس پر اپنے سوال کو لکھ کر پیش کرے ۔ ڈاکٹر اقبال پر دھا ن لوگوں کو سلپ دے رہے تھے ۔ اس پر مذکورہ صاحب نے کہا کہ سوال کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں۔ آدمی اس طرح پوری بات نہیں لکھ پاتا ڈائیریکٹ مائک پر سوال کرنے کا طریقہ ہونا چاہیے ۔ مزید انھوں نے کہا کہ یہاں جو لوگ آتے ہیں جوں کہ ان کا علمی بیک گرائونڈ نہیں ہے ۔ اس لیے ہو نہیں جانتے کہ کسی اجتماع میں سوال کرنے کا علمی طریقہ کیا ہونا چاہے ۔
میرے نزدیک یہ جھوٹ کی بات ہے ۔ جب ہم نے بار بار یہ صراحت کر دی کہ جمعہ کے اجتماع میں صرف وہی لوگ آسکتے ہیں جو ہم سے کامل اتفاق رکھتے ہوں پھر اس کے بعد آدمی کےلیے وہ ہی انتخاب ہے۔ یا تو وہ ہماری شرط کو پورا کرتے ہوئے آئے یا اس سے اختلاف کر تے دور رہے ۔ یہ ایک چھوٹ ہے کہ آدمی اپنےکو کامل متفق بتائے اور پھر اجتماع کے اندر وہ مذکورہ قسم کا اختلاف کر کے فتنہ برپا کرے۔