Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15اپریل 2006
حدیث میں آیا ہے کہ الدعاء لا يردّ بين الأذان و الاقامة . ( الترمذى )یعنی اذان اور اقامت کے درمیان جو دعا کی جائے وہ واپس نہیں لوٹائی جاتی۔ یہ سادہ طور پر وقت کا معاملہ نہیں۔ بلکہ وہ اس وقت پیدا ہونے والی کیفیت کا معاملہ ہے۔ ایک شخص جس کے اندر نماز کی حقیقی اسپرٹ بیدا ہو، جو اذان او ر اقامت کے درمیان ربانی کیفیا ت میں غرق ہو اس کا معاملہ اِ س حدیث میں بتایا گیا ہےنہ کہ عام انسان کا معاملہ۔
اس حدیث میں ایک بات کو اگر چہ وقت کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے لیکن در اصل وہ ربّانی انسان کے حوالے سے ہے۔
اِس بات کا ثبوت ایک اور حدیث سے ملتا ہے ۔ اس حدیث میں بتا یا گیا ہے :واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل . ( الترمذى ) یعنی جان لو کہ اللہ ایک غافل قلب سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔
اِس سے واضح ہوتا ہے کہ سچی دعا رٹے ہوئے الفاظ کا تکرار کا نام نہیں۔ سچی دعا وہ ہے جو بیدار قلب سے نکلتی ہے ۔یعنی وہ دعا ء ، جب کہ ایک بندہ خدا کے اندر اٹھنے والا ربّانی طوفان الفاظ کی صورت اختیار کر لے۔