Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16ستمبر 2006
جیسا کہ معلوم ہے ۔ حدیثیں رسول اللہ کے زمانے میں باقاعدہ طور پر جمع نہیں کی گئیں ۔ جب کہ اسی زمانےمیںقرآن کوباقاعدہ طورپر جمع کیا جا رہا تھا۔ایساخود رسول اللہ کی ہدایت کےمطابق ہوا۔ کیوںکہ آپ نے فرمایا تھا:لا تكتبوا عنّي غير القرآن۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ وہی پیغمبر جس نے قرآن کے بارے میںکہا:تعاهدوا القرآن۔ اس پیغمبر نے حدیث کی حفاظت کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔
اس پر کافی غور کرنے کے بعد میںیہ سمجھتا ہوںکہ یہ ایک خدائی منصوبہ بندی کامعاملہ تھا۔کیوںکہ یہ بات طےشدہ تھی کہ لوگ ہر حال میں اقوالِ رسول کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھیں گے ۔قرآن حفاظت ،کتابت کے ذریعے ہوتی رہی اور حدیث کی حفاظت حافظے کے ذریعے ۔ ۔اِس فرق کاایک بہت بڑا فائدہ تھا۔ اگر قرآن ہی کی طرح حدیث ، آپ کی زندگی میں لکھ کر محفوظ ہو جاتی تو بعد کی نسلوں کے لیے کوئی کام باقی نہ رہتا۔ حدیثوں کی جمع و تدوین کا کام عباسی خلافت کے زمانے میںہوا ہے ۔ یعنی اُس زمانے میں جب کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی بگاڑ آچکا تھا ۔ ایسی حالت میںیہ ہوتا کہ تمام لوگ سیاسی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیتے ۔ اِسی طرح پوری امت حسین اور ابن زبیر اور معاویہ سے لوگوں سے بھر جاتی ۔ حدیث کا غیر مدوّن ہونا لوگوں کےلیے اِس بات کا ذریعہ بن گیا کہ وہ سیاسی بگاڑ کے اِشو کو نظر انداز کر کے حدیث کی تدوین میںلگ جائیںاِسی طرح حدیث کی تدوین کا کام بعد کے لوگوں کے لیے ایک چیک بن گیا۔