Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29جون 2006
قرآن میں آیا ہے کہ : اذكروا الله ذكراً كثيراً ( الاحزاب ٤١ )ماحول کے اثر سے سب سےپہلے میں نے اِس آیت میں ذکر سے تکرارِ الفاظ مراد لیا تھا۔ بعد کو یہ سمجھ میں آیا کہ یہاں ذکر سےمراد یاد ہے۔ لیکن آج مجھ پر یہ کُھلا کہ یاد کے لفظ سے اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر سے مرا د وہی چیز ہے جس کو قرآن میںدوسرے مقامات پر تفکر اور توسّم کیا گیا ہے ۔یعنی سوچنا ۔میری معلومات کے مطابق ، پوری تاریخ میں لوگ ذکرِ کثیر کا مطلب نہیں سمجھے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ ذکر سے مراد عربی کے کچھ الفا ظ لیتے ہیں۔مثلاً بسم اللہ ، الحمداللہ ، وغیرہ (تفہیم القرآن جلد ۴ صفحہ ۹۷)صوفیاء نے ذکرِ کثیر کو عددی کثرت کے معنی میں لیا ۔ علماء نے یہ سمجھا کہ کچھ مقدس الفاظ میں ان کو ہر موقع پر دہرانے کا کام ذکر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہےکہ اس سے مراد سوچ ہے ۔ سوچنے کی صفت انسان کے اندر سب سے بڑی صفت ہے۔ اِسی اعلیٰ سطح پر خدا میں جینے کانام ذکر کثیر ہے۔