Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بصارت ہو گئی تو کیا ، بصیر ت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے ند نادیدہ نا دیدہ
یہ شعر وہاں بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ اِس شعر میں بلا شبہ ایک گہرائی ہے۔ لیکن اِس گہرائی کا ادراک صرف ایک نابینا انسان ہی کر سکتا ہے ۔ ایک شخص تعلیم یافتہ ہوا اس نے کافی مطالعہ کیا ہواس کے بعد وہ نابینا ہو جائے تو اس کے لیے نابینا ہونا اوربھی زیادہ بڑے فائدے کا سبب بن جاتا ہے ۔ اِس سے پہلے اس کا علم مطالعہ اور مشاہد ہ پر مبنی تھا ۔ یعنی خارجی ذریعہ علم(External source of knowledge)پر نابینا ہو نے کے بعد اس کا انحصار داخلی ذریعہ علم (Internal source of knowledge)پر ہو جاتا ہے۔ خارجی ذریعہ علم محدود ہے اور داخلی ذریعہ علم لا محدود ۔ اس لیے اگر کوئی شخص نابنیا ہو نے کے بعد طور پر مثبت فکرپر قائم رہے تو وہ نابینا ہونے کےبعد پہلے سے بھی زیادہ گہرا انسان بن جائے گا۔