Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10فروری 2013
قرآن کی سورہ نمبر 93میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :
ووجدك عائلاً فأغنى ( الضحى : ٨ )یعنی خدا نے تم کو محتاج پایا تو اس نے تم کو مالی اعتبار سے بے نیااز کر دیا۔ عالم طور پر مفسرین اس آیت کو نبی کی ذات سے تعلق کر کے اس کی تفسیر کر تے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ کی مثال سے یہ بتایا گیا ہے کہ داعی حق کے ساتھ خدا کی نصرت کا خصوصی معاملہ ہوتا ہے ۔
اصل یہ ہے کہ داعی وہ انسان ہے جو اپنے مشن کی خصوصی نوعیت کی بنا پر معاشی فراہمی کا کام نہیں کر پاتا ۔ کیوں کہ وہ ہمہ تن خدا کے ساتھ اور خدائی کام کے ساتھ جڑا رہتا اہے ۔ رسول اللہ جو مکمل طور پر ایک صاحب مشن تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ انتظام کیا کہ دوسروں کے ذریعے آپ کومعاشی اسباب فراہم ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے عبد المطلب آپ کی کفایت کی۔ اس کے بعد ابو طالب نےیہ کام کیا۔ اس کے بعد خدیجہ اس کا ذریعہ بنیں ۔ اس کے بعد ابو بکر اور عثمان آپ کے لیے معاشی ذریعہ بنے رہے۔ اس کے بعد میں رسول اللہ کے لیے پانچواں حصہ رکھا گیا (الانفال :42)یعنی سارے مسلمانوں کی طرف سے آپ کے لیے منظم تعاون کا انتظام ۔
مجھے ذاتی طور پر بھی اس نصرت کا تجربہ ہوا ہے۔ میں مشن میں غرق ہونے کی وجہ سے کوئی تجارت یا ذراعت یا ملازمت نہیں کر سکتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مسلسل طور پر معاشی ذریعے کا انتظام کر دیا ہے ۔ بچپن میں دین محمد ماموں پھر صوفی عبدالحمید خان پھر حافظ حامد حسین علوی پھر عبد العزیز خان پھر شعبہ تصنیف جماعت اسلامی ، پھر مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، پھر الجمعیۃ ویکلی ، پھر ڈاکٹر ظفر الاسلام پھر ڈاکٹر مسلم خانم ، پھر ڈاکٹر ثانی اثنین خاں۔