Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21مارچ 2006
قرآن میں اولاد کو فتنہ بتایا گیا ہے ۔ حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میںیہ فتنہ اتنا زیادہ بڑھنے والا تھا کہ انسان کے لیے اس کی اولاد اس کے لیے رب کا درجہ حاصل کرلے ۔ میں سمجھتا ہوںکہ موجودہ زمانہ ایسا ہی زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں اولااد نے سب سے بڑے فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔
اِن حالات میں کسی صاحب مشن کے لیے صرف دو میں سے ایک کی صورت باقی رہ گئی ہے۔ یاتو وہ ابن تیمیہ اور امام مسلم کی طرح نکاح کرے تاکہ اس کے لیے اولاد کا مسئلہ پیش نہ آئے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ شادی کرے اس کے یہاں اولاد بھی ہولیکن وہ اولاد کے مقابلے میں زاہد بن جائے۔ عملی طور پر وہ ان سے بے رغبت ہو کر رہے۔ میری شادی میرے بڑے بھائی اقبال احمدسہیل نے کر دی تھی لیکن اپنے مزاج کے اعتبار سے میں دوسرے قسم کا انسان بن گیا۔ میری شادی تو تقریباً65برس ہوگئے ہیں لیکن میں نے کبھی اپنی بیوی کے لیے ایک جوڑا کپڑا نہیں بنوایا ۔ میں نے اپنے بچوں کو کبھی گود میں لے کر نہیں کھلایا اور نہ بچوں کے لیے کبھی کھلونہ اور ٹافی لایا۔ میں نے اپنے بچوںکو مکمل طور پر خدا کے اوپر چھوڑ دیا اور خود دعوتی مشن میں لگا رہا۔
اپنے تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اِن دو کے سوا کوئی تیسری شکل اس سلسلے میں ممکن نہیں ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ یہ دونوں ہی ضرورتیں لوگوں کے لیے سخت مشکل ہیں۔ خاص طورپر دوسری شکل تو ایسی ہے کہ میرے علم کے مطابق ، اس قسم کا کوئی دوسرا انسان شاید تاریخ میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ مگر ایک واقعہ ہے کہ مشن کی ذمے داریوںکر ادا کرنے کےلیے اِن دو کے سوا کوئی اور صورت آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے مشن کے ساتھیوں سےکہتا ہوں کہ وہ ہر گز اولاد پیدا نہ کریں، ورنہ وہ ہاولاد کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائیں گے ، وہ دعوتی کام نہ کر سکیں گے۔