Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24جولائی 2006
نئی دہلی کے اردو روزنامہ (راشٹر سہارا ، ۲۳ جولائی ۰۶ء) میں ایک مضمون چھپا ہے ، جس کا عنوان یہ ہے -مسلم امپاورمنٹ : مسائل اور امکانات (صفحہ ۳)اس کے لکھنےوالے ڈاکٹر منظور عالم ہیں۔
مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ انڈیا کے مسلمان یہاں کی سب سے زیادہ پس ماندہ کمیونٹی بن چکے ہیں۔ حکومت کی ذمے داری ہےکہ وہ ان کو اوپر اٹھائے اور ان کو ترقی یافتہ بنائے۔
یہی بات ہندوستان کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ کہتے ہیں ۔لیکن میرے نزدیک یہ ایک لغو بات ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان۱۹۴۷میں پاکستان بنواکر اپنا حق وصول کر چکے ہیں۔ اب اگر وہ ہندوستان میں ہیں تو یہ ہندوئوں کا احسان ہے کہ وہ انھیںقبول کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان بنواکر مسلمان ہندوستان میں اپنا حق کھو چکے ۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیڈر مسٹر علی جناح نےعلی گڑھ مسلم یو نیورسٹی میں اپنی ایک تقریرمیں کہا تھا کہ ہم ہندوستان کے مسلمانوں کوقربان کر کے پاکستان بنوائیں گے ۔اِس پر ان کو حاضر ین کی طرف سے تالیاں ملی تھیں۔ اب مسلمانوں کے یا صرف دو میں سے صرف ایک انتخاب ہے ۔یا تو وہ موجودہ صورت حال کو خوداپنی تقسیمی سیاست کا نتیجہ سمجھ کر اس کو قبول کریں، یا کھلے طور پر وہ یہ اعلان کریں کے تقسیم کے لیڈروں نے جو سیاست چلائی تھی وہ غلط تھی ۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو ڈس اون (Disown)کرتے ہیں ۔ ان دو کے سوا ، کوئی تیسرا انتخاب مسلمانان ہند کے لیے نہیں ہے ۔