Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12نومبر 2006
آج اتوار کی ہفتے وار کلاس تھی ۔ میںنے اپنی تاریخ افکار (History of Thought)کو لے کر کچھ باتیں کہیں ۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ پوری انسانی تاریخ گذر گئی ، لیکن کوئی فلسفی یا مفکر آئڈیا لو جی آف لَو (Love)پیش نہ کر سکا۔ ہر زبان میں بے شمار ، ناول لکھے گئے ہیں ۔ یہ تمام ناول مصنف کی کہانی کو بتاتے ہیں ، لیکن وہ محبت کی آئڈیا لوجی کو نہیں بتاتے ۔
میںنے کہا کہ ہر آدمی اپنے ماںباپ یا اپنے بیٹے کی محبت میں غرق رہتاہے ، لیکن اس کے کروڑوں گُنا زیادہ کنٹری بیوشن انسانیت عامّہ کا ہے ۔ دنیا میں ہماری زندگی ایک اعتبار سے اُس سسٹم و ہ ہے جو تہذیبِ انسانی کے ذریعے ہم تک پہنچاہے ۔ وہ ساری چیز یں جن سے ہم آج دنیا میں آرام کی زندگی گذارتےہیں ، وہ سب سارے انسانوںکی لمبی محنت کے بعد ہمارے حصے میں آیا ہے ۔ مثلاً انسان پہلے لکڑی کے تختے کو رسّی میںباندھ کر اس کو کھینچا ۔ یہ انسان کی پہلی سواری تھی ۔ اس کے بعد انسان نے یہ دریافت کیا اور اس کے بعد گھوڑا گاڑی بنی۔پھر اس میں ترقی ہوتی رہی ۔ یہاںتک کہ اسٹیم انجن دریافت ہوا، اس کے بعد ریل گاڑی بنائی گئی ۔ اور پھر موٹر کار اور ہوائی جہاز بنایا گیا ۔ اس کے بعد پورے سفر میں ۲۵ ہزار سال کا فاصلہ ہے ۔ گویا ۲۷ ہزار سال سےپوری انسانیت لگاتار محنت میں لگی رہی ، یہاں تک کے آج ہم کو موٹر کار اور دوسری سواریاں ملیں۔ اگر ان تمام باتوں کو سوچاجائے تو آدمی کادل انسانیت عامّہ کے لیے پناہ اعتراف اور محنت سے بھر جائے ، مگر آج انسان کا یہ حال ہے کہوہ اپنے ماں باپااور اپنی اولاد سے تو محبت کرتاہے ، لیکن عام انسان سے اس کے دل میںمحبت کاکوئی جذبہ نہیں۔