Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12جنوری 2006
حج کے موقع پر جانور کی جو قربانی دی جاتی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ -اس میں سے کھائو اور بُرے حال کے محتاج کو کھلائو۔ (الحج :27)
اِس پر غور کر تے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حج میں جانور کی قربانی کا اصل قصد غالباً یہ ہے کہ حج میں جمع ہونے والے لوگوں کے لیے خوراک کا انتظام کیا جائے۔ قدیم زمانے میں جب کہ محدود طور پر صرف زرعی خوراک قابلِ حصول تھی، نیز کمیونکیشن کے مقدان کی بنا پر باہر سے غذائی اشیاء زیادہ مقدار میں لانا ، سخت مشکل تھا۔ ایسی حالت میں جانور کی قربانی کو حج کے مذہبی مراسم کا جُز بنا دیا ، تاکہ لوگ مذہبی جذبے کے اس کا اہتمام کریں۔
موجودہ زمانے میں جو لوگ حج کے لیے جاتے ہیں ۔ ( اس سال 26لاکھ آدمی حج کےلیے مکہ پہنچے ) یہ تمام لوگ مقامی بازار سے اپنی خوراک حاصل کرتےہیں ۔ شاید ایک فیصلہ حاجی بھی قربانی کے جانور سے اپنی خوراک حاصل نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں قرآن کی مذکورہ آیت عملاً غیر متعلق نظر آتی ہے ۔ اِس لیے اگر ایسا کہا جائے تو شاید یہ غلط نہ ہو گا کہ اب حج کے موقع پر جانور کی قربانی کی حقیقی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ اب زیادہ تر اس کی علامتی اہمیت ہے ۔ کیوں کہ اب سورہ الحج کی مذکورہ آیتوں پر عمل تقریباً متروک ہو چکاہے۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ قربانی سےمقصد گوشت اور خون نہیں، بلکہ تقویٰ ہے (الحج :36)یہ آیت گویا کہ مستقبل تک کےحالات کا احاطہ کررہی ہے ۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اہمیت تقویٰ ہے،اور اب موجودہ زمانے میں تقویٰ پیدا کرنے پر دینا چاہیے۔