Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23مارچ 2006
اب سے بہت پہلے غالباً 1950میں میں نے ابو الفرقان صاحب سے ایک بات کہی تھی اِس وقت میں اعظم گڑھ میں رہتا تھا ۔ میں اپنے مزاج کے مطابق ، اپنے بچوں کو نظر انداز کرتا تھا۔ اِس بنا پر لوگ مجھ پر سخت تنقید کرتے تھے ۔ میںنے کبھی ان تنقیدوں کی پروا نہیں کی ۔ 1950میں میں نے ابو الفرقان مرحوم سے اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا تھا:میں ایک حاصل شدہ انسان ہو ں۔میرے بچوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ وہ دین کے لیے حاصل ہوںگے یا نہیں۔ یہ جملہ جو اُس وقت میری زبان سےنکلا تھا ، آج میں اُس کو سوچتا ہوں تو مجھ کوسخت تعجب ہوتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوںکہ یہ بچوں کے بارے میں غیر جذباتی انداز میںسوچنے کی شاید آخری مثال ہے۔ اِس کو ایک لفظ میں تجریدی فکر (Detached Thinking)کہاجا سکتا ہے۔ اولاد کے بارے میں اِس قسم کی تجریدی فکر کی مثال مجھے تاریخ میںصرف ایک ملتی ہے ، اور وہ حضرت عمر فاروق کی مثال ہے۔ ممکن ہے کہ اور بھی اِس نوعیت کی مثالیں ہوں مگر وہ میرے علم میں نہیں۔