Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6اگست 2006
۶اگست ۲۰۰۶ءکو حسب معمول ہفتے وار اجتماع تھا جو اسپریچول کلاس کے نام سے جانا جاتا ہے ۔آج کی تقریر کا موضوع تھا: سچائی کی تلاش
اس میں بتایا گیا کہ فلسفہ اور سائنس ، سچائی کے سوال کاجواب دینےمیں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اب اِس معاملہ میں ایک شفٹ کی ضرورت ہے ۔ وہ شفٹ یہ کہ پچھلی انسانی تلاش بُک آف نیچر کی بنیاد پر ہو رہی تھی ۔ اب اس کو بُک آف گاڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے ۔ اِس شفٹ کی نشاندہی ڈارون نے کر دی ہے ۔ ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع (Origin of Species)میں زندگی میں ارتقاء ، کا نظریہ فاسل (Fossils)کی بنیاد پر وضع کیا ہے۔ لیکن جب یہ سوال اس کے سامنے آیا تو اس نے خالق (Creator)کو مان لیا۔ اس نے اپنی کتاب کے آخری پیراگراف میں شان دار طور پر خالق کا اعتراف کیا ہےجس نے ابتدائی زندگی بنائی ۔ اور پھر اس سے مختلف قسم کی انواع ِ حیات ظہور میں آگئیں۔
تقریر کےآخری حصے میں مثالوں کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ قرآن میںایسے شواہد موجود ہیں جو ناقابل تردید طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے ۔ اور وہ اِس قابل ہے کہ اس کو ان کنڈیشنل گرو کی حیثیت سے ایک کتاب ہدایت مان لیا جائے۔