Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30دسمبر1996
بہار کے ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے یہاں کے مسلم نوجوان یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کا حل صرف گوریلا وار ہے۔ کسی اور طرح یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ میں نے کہا کہ اگر مسلم نوجوان اس قسم کی جنگ چھیڑیں تو وہ گوریلا وار نہیں ہوگی بلکہ وہ پاگل وار ہوگی۔ اس کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ آپ لوگ واقعات سے سبق نہیں لیتے ورنہ کشمیر، کراچی، برما، فلپائن، بوسنیا، چیچنیا، فلسطین جیسے بہت سی جگہوں پر بس گوریلاوار لڑی گئی تو ہر جگہ وہ یکطرفہ طور پر مسلمانوں کی ذلت اور ناکامی پر ختم ہوئی۔ اس کے باوجود آپ لوگ گوریلا وار کی بات کرتے ہیں تو اس کو پاگل پن کے سوا اور کیا کہا جائے۔
اس ناقابل فہم نادانی کی ذمہ داری مسلم نوجوانوں پر نہیں ہے بلکہ ان کے بڑوں پر ہے۔ مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے پر جنگ اور فتوحات کی تاریخی داستانوں کو مسلسل طور پر ان کے سائے پر فخر بناکر پیش کررہے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کے پاس سوچنے کے لیے کوئی دوسرا نقشہ فکری نہیں۔ وہ جدوجہد کے نام سے صرف پرتشدد جدوجہد کو جانتے ہیں۔ پرامن جدوجہد سے ان کے اکابر تک واقف نہیں۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کی سوچ پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔