Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30اکتوبر1996
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب غارحرامیں پہلی وحی اتری تو حضرت جبرئیل نے آپ سے کہا کہ اقراء (پڑھ) تو آپ نے جواب دیا۔ ماانا بقاری(میں پڑھاہوا نہیں) حضرت جبرئیل نے وبارہ اپنا لفظ دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا۔
ان دونوں باتوں کو ملاکر دیکھئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ: تم قاری نہ ہو تب بھی پڑھو۔ نہ پڑھ سکنے کے باوجود پڑھو۔ اس پر سوچتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ یہ محض ایک وقتی واقعہ نہیں تھا بلکہ اس میں ایک مستقل رہنمائی چھپی ہوئی تھی۔ اس طرح اسلام نے نوع بشری کو یہ ذہن دیا کہ تم میں سے کوئی شخص خواہ براہ راست نہ پڑھ سکے پھر بھی اسے پڑھنے کی کوششیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ یہ ذہن شعوری یا غیر شعوری طور پر انسانی تاریخ میں داخل ہوگیا۔
پچھلے مہینہ میں امریکہ گیا تو وہاں میں نے ایک واقعہ دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ عارحرا میں جو ذہن دیا گیا تھا یہ شاید اسی کا کلمنیشن (Culmination)ہے۔ وہاں ٹمپل یونیورسٹی میں میری ملاقات ایک بلائنڈ پروفیسر سے کرائی گئی۔ میں نے پوچھا کہ مطالعہ کے لیے شاید آپ کسی سے پڑھواکر سنتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں میں انسان سے نہیں پڑھواتا بلکہ مشین سے پڑھواتاہوں۔ اس کے بعد انہوں نے میز پر رکھی ہوئی ایک مشین کے خانہ میں انگریزی کی ایک کتاب کھول کر ڈالی۔ انہوں نے بٹن دبائی تواس کے فوراًبعد مشین کتاب کے مضمون کو پڑھ کر مسلسل سنانے لگی۔ میں نے کہا کہ یہ وہی چیز ہے کہ پڑھ نہیں سکتے ہو تو بھی پڑھو۔