Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4اکتوبر1996
مکہ کا عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (11جمادی الاولی1417ھ،22ستمبر1996)ڈاک سے ملا۔ اس کے درمیانی دو صفحہ (9-8)پر ایک باتصویر رپورٹ چھپی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ عربوں نے مسلم بوسنیا کو ہر اعتبار سے برباد کردیا ہے۔ انہوں نے یہاں کے مسلمانوں پر بدترین قسم کے ظلم کئے۔ چنانچہ بوسنیا کے مسلمان آخری حد تک تباہ ہوچکے ہیں۔ اس رپورٹ کا نہایت جلی عنوان یہ ہے: حتی یتم محاکمۃ مجرمو الحرب فی البوسنۃ؟ یعنی بوسنیا کے جنگی مجرمین کا ٹرائل کب ہوگا۔
مضمون نگار کے نزدیک یہ جنگی مجرمین صرب (Serbs)ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ مجرمین خودبوسنیا کے مسلم لیڈر اور مسلم دنیا کے تمام علماء اور دانشور ہیں۔ بوسنیا کے مسلمان یوگوسلاوی ڈیموکریسی کے تحت امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اس ڈیموکریسی میں صرب،کرودات اور مسلمان تینوں شریک تھے۔ 1992میں بوسنیا کے مسلم لیڈر عزت بیگ نے ایک جذباتی فیصلہ کے تحت بوسنیا کی علیحدگی اور آزادی کا اعلان کرایا۔ واضح ہو کہ میں اعلان کے وقت عزت بیگ بوسنیا کے صدر کے چیف منسٹر تھے۔ اس اعلان کے فوراً بعد تمام دنیا میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے اس کو عین اسلام قرار دے کر ان کے اس جذباتی اقدام کو گلوریفائی کرنا شروع کردیا۔
یہ اقدام اگر درست تھا تو میں کا الٹا نتیجہ کیوں نکلا۔ اور جب الٹا نتیجہ نکلنے والا تھا تو انہوں نے ایسا انتہائی اقدام کیوں کیا۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح یہ تھا کہ بوسنیا کی مسلم قیادت صوبائی سطح پر حاصل شدہ محدود اقتدار پر قناعت کرتے ہوئے بقیہ مقدمہ کے لیے پرامن انداز میں تعمیری جدوجہد کرلی۔ علیحدگی اور آزادی کاناعافیت اندیشانہ اقدام کرنے کے نتیجہ میں جو نقصانات سامنے آئے اس کے ذمہ دار خود اعلان کرنے والے ہیں، کیوں کہ شرعی اصول کے مطابق، جو شروع کرے وہی زیادہ ظالم ہے (البادئ اظلم)