Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17مارچ1996
فقہ کا ایک مستقل قاعدہ ہے کہ المشقۃ تجلب التیسیر(مشقت آسانی لاتی ہے) یعنی جب حالات ایسے ہوں کہ کسی شرعی حکم پر عمل کرنا آدمی کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہوجائے تو ایسے موقع پر حکم کو نرم یا ساقط کردیا جاتا ہے۔
یے ایک نہایت اہم اصول ہے۔ مگر ہمارے فقہا اور علما اس کا استعمال صرف جزئی امور میں کرتے ہیں۔ وہ مریض کے لیے وضو کرنے میں وضوپڑھنے کا اندیشہ ہو تو اس کو اجازت مل گے کہ تم تییم کرلو۔ مگر زیادہ بڑے معاملات پر جس کا نقصان ہزاروں گنازیادہ ہو وہاں اس قاعدہ کا انطباق نہیں کیا جاتا۔
مثال کے طور پر آج بہت سے مسلم ملکوں میں نفاذ شریعت کی تحریکیں بن رہی ہیں۔ چونکہ موجودہ مسلم حکمراں سیکولر مزاج کے ہیں وہ ان تحریکوں کی راہ میں رکاوٹیں والے ہیں۔ اس کے بعد ان تحریکوں کے افراد تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اب یہ مسلم حکمراں اور زیادہ سخت ہوکر انہیں گولی اور پھانسی کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ بلاشبہ مشقت کی صورت حال ہے۔مگر ساری مسلم دنیا میں کوئی بھی کام عالم یافقہہ نہیں جو مذکورہ شرعی اصول کو اس معاملہ پر منطبق کرے اور ان تحریکوں کے رہنماؤں سے کہے کہ تم سیاسی ٹکراؤ چھوڑکر پر امن دائرہ میں دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تعمیر کا کام کرو۔