Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12اگست1996
مسٹر وامن راؤ جاگیردار ایک اردو داں ہندو ہیں۔ وہ پربھنی میں رہتے ہیں۔ اور الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کا خط مورخہ2اگست ملا۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:
’’الرسالہ جولائی1996میں آپ نے لکھا ہے کہ آپ سے ایک جین دھرمی نے سوال کیا کہ آپ لوگ جانور کو کیوں ذبح کرتے ہیں۔ خود میرے خیال میںجانوروں کو ذبح کرنے کا مسئلہ قدرتی توازن کا مسئلہ ہے۔ یہ کسی کا دھارمک مسئلہ یا اہنسا کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہرن کوئی درندہ جانور نہیں ہے اور نہ ہی اس کے وجود سے انسانی جان کو خونی جانوروں جیسا خطرہ ہے۔ پھر بھی ہرن کے شکار کو ہندو دھرم نے کیوں اجازت دی۔ کیوں کہ ہرن کا چمڑا مذہبی رسومات میں پاکیزہ سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہرن کے جھنڈفصل کو کھاجاتے تھے اور انسان کو غذا نہیں ملتی تھی۔ لہذا ہرن کا شکار کرنا لازم ہوگیا‘‘۔