Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8جنوری1996
الور کے مفتی جمال الدین صاحب قاسمی ملاقات کے لیے آئے۔ وہ الورہی مدرسہ اشرالعلوم کے ناظم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک صاحب مہمان تھے۔ 4جنوری کو میں نے ان کے کپڑے مدرسہ کے ایک طالب علم ضیاء الدین کو دیے اور کہا کہ اس کو لے جاکر دھو ڈالو۔ اس سے مزید کہا کہ ذاکر حسین (طالب علم) کو بھی ساتھ لے لینا۔ کچھ دیر کے بعد ضیاء الدین بغیر دھلے کپڑا لے کر آیا اور کہا کہ ذاکر حسین کپڑا دھونے سے انکار کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ کپرے نہیں دھوؤں گا۔
مفتی صاحب کو یہ بات سن کر غصہ آگیا۔ انہوں نے اپنا ڈنڈاہاتھ میں لیا کہ آج میں ذاکرحسین کو پٹائی کروں گا۔ اس کے بعد انہوں نے ذاکر حسین کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کپڑا دھونے کیوں انکار کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے انکار نہیں کیا۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا کہ دیکھئے۔ اب میری انگلی میں زخم ہوگیا ہیں۔ اس لیے میں نے کہا کہ میں زخمی انگلیوں کے ساتھ کیسے کپڑا دھوؤں گا مفتی صاحب نے اس کا ہاتھ دیکھ کر کہا کہ واقعی تم معذور ہو، جاؤ اپنا علاج کرو۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق کتنا زیادہ ضروری ہے۔ تحقیق کے بغیر جو لڑکا قابل سزادکھائی دے رہا تھا، وہ تحقیق کے بعد قابل معافی بن گیا۔