Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21جون1996
محمد یوسف صاحب (فلائنگ کمانڈر) اپنی بیوی کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے۔ دونوں ہندوؤں کی شکایت کرتے رہے۔ ہندومعتصب ہیں، وہ مسلم دشمن ہیں، وغیرہ۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اپنا دوحالیہ قصہ بیان کیا۔ ان کے صاحبزادے منصور ایک انگلش اسکول میں پڑھتے ہیں۔ مسٹر منصور نے تقریر کے مقابلہ میں حصہ لیا۔ انگریزی میں تقریر کے لیے یہ ان کا پہلا موقع تھا۔ والدین کس خوش خبری کے متوقع نہ تھے۔ مگر مسٹر منصور جب شام کو واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ ان کو فرسٹ پرائز (پہلا انعام)ملا۔ چھ سو روپے نقد دئے گئے۔ اور لوگوں نے مزید بہت سے تحفے دئیے۔ یہ ایک ایسے اسکول میں ہوا جہاں پورا ماحول ہندوؤں کا ہے۔
چند دن پہلے وہ چھٹی گزارکر اپنے گاؤں (غازی پور) سے واپس آئے ہیں۔ واپسی میں ان کو دیوارنگر سے مگدھ ایکسپریس سے سفر کرنا تھا۔ یہ ٹرین وہاں صرف دو منٹ رکتی ہے۔ رات کا وقت تھا۔ بوگی تلاش کرنے میں دیر ہوگئی۔ ان کے دونوں بچے (منصور اور انیسہ) ڈبہ میں سوار ہوگئے۔ مسٹر یوسف اور مسز یوسف دونوں پلیٹ فارم پر رہ گئے۔ گاڑی نکل گئی تو وہ اسٹیشن ماسٹر سے ملے۔ اس نے فوراً اگلے اسٹیشن (مغل سرائے، کانپور) ٹیلی فون کرکے ریلوے کارکنوں کو بتایا کہ دوہ بچے اس طرح مگدھ ایکسپریس سے دہلی جارہے ہیں ان کے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔ کیوں کہ ان کے والدین چھوٹ گئے ہیں اور ٹکٹ والدین کے پاس ہے۔ اس کے بعد اس نے دوسری ٹرین (کالکا ایکسپریس) سے دونوں کے لیے دہلی سفر کا انتظام کیا۔ دونوں بچوں کو راستہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ انہوں نے ٹکٹ چیکر سے اپنا کیس بتایا تو اس نے فوراً انہیں برتھ دیدی۔ دونوں آرام کے ساتھ دہلی پہنچ گئے۔ چند گھنٹہ بعد مسٹر یوسف اور مسزیوسف بھی دوسری ٹرین سے دہلی پہنچ گئے یہ سارا انتظام بھی دوبارہ ہندوؤں نے کیا۔
ان کو ہندوؤں سے اتنا اچھا تجربہ ہوا۔ پھر وہ ہندوؤں کے شاکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ دونوں واقعہ کو انہوں نے اپنے پیپر جاب کی برکت کے خانہ میں ٹائ دیا۔ اور ہندو کے بارے میں کسی سنی سنائی خبر کی بناپر بدستور انہیں مسلم دشمن اور متعصب سمجھتے رہے۔