Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18اگست1996
شہر کی ایک مسلمان لڑکی کی شادی ایک دیہات میں ہوئی۔ وہ لوگ خوش حال تھے مگر ان کی زبان پر دیہاتی کلچر کا اثر تھا۔ ہندی زبان کے اثر سے وہ شیروانی کو سروانی اور قاب کو کاب کہتے تھے۔دوسری طرف لڑکی ایک خالص اردو گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اہل زبان کے انداز میں بولتی تھی۔ لڑکی جب پہلی بار رخصت ہوکر اپنے سسرال میں گئی تو وہاں اس کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ البتہ گھر والوں کا ہندی لہجہ اس کو اچھا نہیں لگا۔ جب وہ واپس ہوکر اپنے میکے جانے لگی تو اس نے اپنے شوہر سے کہا: ہمارے یہاں آئیے گا تو اپنی شین ساف درست کرکے آئیے گا۔
شوہر کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ اس نے اپنے دل میں طے کرلیا کہ اب نہ میں تمہارے یہاں جاؤں گا اور نہ تم میرے یہاں آؤگی۔ چنانچہ رخصتی کےجلدہی بعد اس نے باقاعدہ طلاق نامہ لکھ کر لڑکی کے نام بھیج دیا۔
اس معاملہ میں میرے نزدیک لڑکی کے ماں باپ قصوروار ہیں۔ وہ اپنی لڑکی کے لیے ہرقسم کا جتن کرتے ہیں مگر اس کو یہ نہیں سکھاتے کہ سسرال میں ایڈجسٹ کرکے رہنا۔ حالانکہ ایڈجسٹ منٹ ہی کامیاب زندگی کا واحد راز ہے۔