Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3اگست 1996
نجم الدین اربکان (69سال) ترکی کے ایک انجینئر ہیں۔ وہ سیاست میں شامل ہوگئے اور اب وہ وہاں کی رفاہ اسلامی پارٹی کے لیڈر ہیں۔ جولائی1996کے الیکشن میں انہوں نے حصہ لیا۔ اسمبلی میں مطلق اکثریت تو وہ حاصل نہ کرسکے۔ البتہ ان کی پارٹی اسمبلی میں واحد سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ اب اربکان نے انہیں سیاسی پارٹیوں کے اشتراک سے ترکی میں مخلوط حکومت بنائی ہے جن کے متعلق انتخابی۶ مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’’ان کو ووٹ دینا یہودیوں کو ووٹ دینے کے ہم معنی ہوگا‘‘
اربکان کی پارٹی کے نام میں ’’اسلامی‘‘ کا لفظ شامل ہے، وہ انتخابی مہم کے دوران اپنی پرجوش تقریر یں کہتے تھے کہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہم مغربی بلاک سے الگ ہوکر ایک اسلامی بلاک بنائیں گے۔ امریکی اقوام متحدہ کے بجائے اسلامی اقوام متحدہ قائم کریں گے۔ اور موجودہ ناٹو کی فوجی تنظیم کی جگہ اسلامی ناٹو کی تشکیل کریں گے۔ اس بناپر جب وہ ترکی کے وزیراعظم بنے تو دنیا بھر کے اسلام پسند پریس نے ہر جگہ خوشی منانا شروع کیا کہ ترکی میں اسلام آگیا۔
میرے نزدیک یہ احمقانہ خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز کسی بھی درجہ میں قابل عمل نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جو آدمی بڑے بڑے الفاظ بولے اس کے پیچھے دوڑپڑتے ہیں۔ خواہ اس کے خوشرتا الفاظ ہوامیں گرہ لگانے کے ہم معنی کیوں نہ ہوں، اسی سطحیت اور بے دانشی نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو تباہ کر رکھا ہے۔