Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25اپریل1996
مکہ کے عربی ہفتہ وار العالم الاسلامی کے شمارہ20ذوالقعدہ1416ھ (8اپریل1996)میں صفحہ اول پر جو ھردودائیف (Dzokhar Dudayer)کی رنگین تصویر چھپی ہے جو چیچنیا کی علیحدگی پسند تحریک کے سب سے بڑے لیڈرتھے۔ تصویر کے ساتھ ان کا پرجوش بیان چھپاہوا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ روس سے امن کی بات ہمیں منظور نہیں۔ ہم عدم کرتے ہیں کہ ہم اس وقت تک لڑیں گے جب تک آخری چیچائی زندہ ہے ۔ یہاں تک روسی اپنی فوجیں مکمل طور پر ہمارے یہاں سے واپس لے جائے (ونمھد بالقتال حتیٰ آخر شیشانی مالم تسحب روسیا قواتھا بالکامل) اس رپورٹ کا عنوان ہے: سنقاتل حتی آخر رجل ۔
جو ھر دودائیف کی اس تقریر کے صرف چند دن بعد23اپریل1996کو روس نے چیچن باغیوں کے ٹھکانوں پر ریکٹ حملہ (Rocket Attack)کیا جس میں دوسرے افراد کے ساتھ جوھر دودائیف بھی ہلاک ہوگئے۔
ٹائمس آف انڈیا (25اپریل) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جوھر دودائیف کے ترجمان (Vagap Tutakov)نے کہا کہ ہماری جدوجہد تگنی طاقت کے ساتھ جاری رہے گی:
The struggle will be continued with tripled energy.
چیچنیا سوویت یونین کا ایک حصہ تھا۔ اگست1991میں یہاں آزادی کی جو وجہ شروع ہوئی۔یہاں سے علیحدگی کی یہ مسلح تحریک زیادہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک انتہا پسندی ہے۔ صحیح یہ تھا کہ وہاں پرامن سیاسی تحریک چلائی جاتی ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان پر امن عمل (Peaceful Activism)کو جانتے ہی نہیں۔