Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30نومبر1996
آج میں پونا میں تھا۔ پونا میں بہت بڑے پیمانہ پر ایک ورلڈ کلاس سمٹ رکھی گئی تھی۔ اس میں انڈیا اور بیرونی ملکوں کے700ڈیلی گیٹ شریک ہوئے۔30نومبر کو ورلڈ پیس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس موقع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ مثلاً ڈاکٹر کلیس نوبل (Claes Nobel)اور یونیسکو کی خاتون اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل۔
اس موقع پر مجھے بھی خطاب کرنے کے لیے کہا گیا۔ میں ڈائس پر آیا تو میرے سینہ میں جذبات کا طوفان تھا۔ میری بے پناہ تمنا ہے کہ دنیا میں امن ہو۔ انسانوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں تاکہ انسانیت زندہ ہو اور لوگوں کے درمیان دین حق کی اشاعت کی جاسکے۔ مجوزہ ’’ورلڈپیس یونیورسٹی‘‘ نے میرے ان اندرونی جذبات کو جگادیا۔ میں نے اپنی تقریربیس منٹ کی انگریزی سفر پس اس طرح ختم کی کہ مسلسل میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
اس وقت بہت بڑا پنڈال مکمل طور پر بھراہوا تھا۔ اس میں چند مسلمانوں کو چھوڑکر باقی سب کے سب ہندو یا کسی اور مذہب کے ماننے والے تھے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ آپ کی تقریر سب سے زیادہ موثر رہی۔ اور آپ کے ساتھ حاضرین بھی روپڑے۔ جلسہ کے خاتمہ پر جب میں ڈائس سے نیچے اترا تو ہندو میری طرف ٹوٹ پڑے۔ وہ اپنے رواج کے مطابق میرا چرن اسپرش کرنے لگے۔ ہر ایک چاہتا تھا کہ میں اس کے سر پر ہاتھ رکھ دوں اور اس کو آشیرواد دوں۔
یہ زیادہ تر پونا کے اعلیٰ ہندو طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر برہمن تھے۔ اس کے باوجود وہ میرے سامنے جھک گئے اور کو میں نے پونا کے مسلمانوں سے کہہ کر دیکھئے ہندوؤں میں کتنی زیادہ مبونیت (Receptivity)ہے۔ مگر ہندوستان کے مسلم لیڈروں نے آج تک یہاں کے ہندوؤں کو نہیں سمجھا۔