Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18دسمبر1996
مسٹر ایم اے متین، اسپیشل میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انگلش لٹریچر سے ایم اے کیا تھا اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ میں انگریزی بولنا اور لکھنا جانتا ہوں۔ مگر جب وہ گورنمنٹ سروس میں آئے تو انہیں اس معاملہ میں سخت دھکا لگا۔
یہ1963کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ایک دفتری ڈرافٹ ایک صفحہ پر تیار کیا۔ اس کو جب وہ اپنے سیکشن آفیسر مسٹر کرشنیا (K Krishnaiah)کے پاس لے گئے۔ افسر نے ان کا پورا مضمون کاٹ دیا اور اس کی جگہ صرف ایک پیراگراف لکھ دیا۔
متین صاحب نے جب دونوں کا تقابل کرکے پڑھا تو انہیں محسوس ہوا کہ متعلقہ بات میں نے ادبی زبان میں لکھی تھی جب کہ دفتری تحریر کے اعتبار سے اس کو فنی زبان میں لکھنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد انہوں نے زبردست محنت شروع کردی۔ وہ قوانین اور ضوابط کی کتابیں پڑھتے تھے۔ اس معاملہ میں انہوں نے اتنا زیادہ توجہ دی کہ انہوں نے اخبارات تک کا مطالعہ چھوڑدیا ۔ آخر کار وہ دفتری مسودات کو فنی زبان میں لکھنے کے ماہر ہوگئے۔ ان کی اسی مہارت کا یہ نتیجہ ہے کہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ان کو گورنمنٹ نے ان کو اسپیشل میٹروپولیٹن مجسٹریٹ بنادیا۔
متین صاحب نے مذکورہ واقعہ کا مثبت تاثر لیا۔ اس کی وجہ سے انہیں زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ اس کے برعکس اگر وہ منفی تاثر لیتے تو انہیں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں مل سکتا تھا۔