Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27اپریل1996
حدیث میں ہے کہ پچھلی امتوں میں محدث ہوتے تھے۔ میری امت میں اگر ایسا کوئی شخص ہوگا تو وہ عمربن خطاب ہیں (قدکان فی الامم محدثون فان یکن فی امتی احد نعمربن الخطاب) لسان العرب134/2
حدَّثَ کے معنی ہیں بیان کرنا، خبر دینا، محدِّث کے معنی ہیں بیان کرنے والا۔ محدَّث اس کو کہیں گے جس سے بیان کیا جائے۔ حدیث رسول میں جس محدَّث کا دکر ہے اس سے مراد ایک انتہائی انوکھا اور نادر انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کی روح اتنا زیادہ خدا سے مل جائے کہ اس کا قلب کلام الہی کا مرکز بن جائے۔ نبی سے خدا کا کلام ملفوظ صورت میں ہوتا ہے اور محدَّث سے غیر ملفوظ صورت میں۔ اس لیے حدیث میں محدَّث کی تشریح ملھم کے رما سے کی گئی ہے۔ اس تشریح کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا سینہ مھبط وحی ہوتا ہے اور محدَّث کا سینہ مھبط الہام۔ عام انسان بھی ذکر و دعا کے ذریعہ خدا سے اپنا ربط قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عام انسان کا ربط یک طرفہ بنیاد پر رہتا ہے اور محدَّث کا ربط دو طرفہ بنیاد پر۔